This is default featured slide 1 title
Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.
This is default featured slide 2 title
Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.
This is default featured slide 3 title
Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.
This is default featured slide 4 title
Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.
This is default featured slide 5 title
Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.
Friday, 18 May 2018
مصر کا غزہ سے منسلک سرحد کھولنے کا اعلان
مصر کا غزہ سے منسلک سرحد کھولنے کا اعلانویب ڈیسک:(18 مئی 2018) مصر نے ماہ رمضان کے دوران غزہ سے ملنے والی سرحد کو کھولنے کا اعلان کیا ہے۔مصری سربراہ مملکت عبدالفتح السیسی نے رفح سرحدی گزر گاہ کو رمضان کے مہینے کے دوران کھولے رکھنے کا حکم دیا ہے، اس اقدام کا مقصد مشکلات میں گھرے غزہ کے شہریوں کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے۔رفح اسرائیلی ناکہ بندی کے بغیر وہ واحد سرحدی گزر گاہ ہے، جس کے ذریعے غزہ کا بیرونی دنیا سے رابطہ ہے۔حالیہ برسوں کے دوران مصر کی جانب سےاس راستے کو زیادہ تر بند ہی رکھا گیا ہے۔
اقوام متحدہ تو ایک برائے نام ادارہ ہی رہ گیا فلسطینیوں کے لئے اصل کام تو عالمی عدالت انصاف نے کر دکھایا، اسرائیل کے خلاف ایسا اقدام کہ پوری مس
| ہیگ(مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی عدالت انصاف نے فلسطین کے علاقے غزہ میں ’یوم نکبہ‘ کے موقع پر اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملوں میں نہتے شہریوں کے قتل عام کی آزادانہ تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عالمی عدالت انصاف کی پراسیکیوٹر جنرل فاتو بنسوڈا نے ایک بیان میں کہا کہ وہ غزہ میں جاری بے چینی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گےاور جرائم میں ملوث اسرائیلی عہدیداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے اہلکار غزہ میں فیلڈ کی صورت حال کا جائزہ لےرہے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ عالمی عدالت انصاف کے دائرہ اختیار میں آنے والے کسی بھی جرم کی تحقیقات کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے --> گا۔ان کا کہنا تھا کہ تشدد کاسلسلہ بند ہونا چاہیے، تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے خون خرابے سے بچنے کی پالیسی اختیار کرنا ہو گی۔ بنسوڈا کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج فلسطینی مظاہرین کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال کررہی ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔خیال رہے کہ سوموار کے روز غزہ کی مشرقی سرحد پر اپنے حق واپسی کے لیے احتجاج کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے اندھا دھند شیلنگ اور فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 61 فلسطینی شہری شہید اور تین ہزار سے زاید زخمی ہو گئے تھے۔ غزہ میں سنہ 2014ء4 کی جنگ کے بعد ایک ہی روز میں شہریوں کے قتل عام کا یہ سب سے بڑا واقعہ ہے۔ |
غزہ ’’زہریلی جھگی بستی‘‘ ہے: رعد ریاض الحسین
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے اسرائیل کی مذمت کی ہے۔رعد ریاض الحسین نے یہ بات جمعے کے روز اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس کا عنوان ’مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال‘۔ اُنھوں نے کہا کہ غزہ کے 19 لاکھ افراد ’’پیدا ہونے سے فوت ہونے تک ایک زہریلی جھگی بستی میں قید ہیں‘‘۔اس خصوصی اجلاس میں اس ہفتے غزہ سرحد کے ساتھ ہونے والے تشدد کے معاملے پر تفتیش کے لیے کمیشن تشکیل دیا جا سکتا ہے، جس میں 60 سے زائد افراد ہلاک جب کہ 2700 زخمی ہوئے۔ہلاک شدگان میں خواتین اور بچے بھی ہیں، جن میں ایک آٹھ ماہ کی بچی شامل ہے۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں اسرائیلی سفیر نے کہا ہے کہ کمیشن کی جانب سے غزہ کے تشدد کے واقعات کی چھان بین سے ’’زمینی صورت حال میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑے گا‘‘۔پیر کے روز نکالی گئی احتجاجی ریلی کشیدگی میں بدل گئی، جو یروشلم میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے حوالے سے نکالی گئی تھی۔ مظاہرین نے غزہ کو اسرائیل سے علیحدہ کرنے والی باڑ پر ہنگامہ آرائی کی، جس دوران رکاوٹ کی رسی کے حصے ٹوٹے اور پتھر پھینکے گئے‘‘۔اسرائیلی افواج نے اجتماع پر فائر کھولا۔ سرحد پر آنسو گیس کے گولے پھینکے جب کہ پرواز کرنے والے ڈرون سے کارروائی کی گئی۔ صرف پیر کے روز تقریباً 60 مظاہرین ہلاک ہوئے۔
او آئی سی ہنگامی اجلاس،وزیراعظم کا فلسطینیوں کے قتل عام پر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ
| ||
افغانستان: اسٹیڈیم میں دھماکے، آٹھ ہلاک
افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں کھیلوں کے ایک اسٹیڈیم میں دھماکوں سے کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔افغان حکام کے مطابق جمعہ کو دیر گئے اس اسٹیڈیم میں ایک کرکٹ میچ ہونے جا رہا تھا جب یہ دھماکے ہوئے اور اس میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی "روئٹرز" کے مطابق صوبائی کونسل کے رکن سہراب قادری کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے راکٹ حملوں سے ہوئے جس میں آٹھ افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوئے۔ننگرہار کے صوبائی گورنر کے ترجمان عطااللہ خوگیانی کے مطابق یکے بعد دیگر ہونے والے ان دھماکوں میں آٹھ افراد مارے گئے جب کہ 43 زخمی ہوئے۔انھوں نے بتایا کہ مرنے والوں میں کرکٹ میچ کے منتظم ہدایت اللہ ظہیر اور متعدد مقامی حکام بھی شامل ہیں۔تاحال کسی فرد یا گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن اس مشرقی صوبے میں طالبان اور دہشت گرد تنظیم داعش سرگرم ہے۔پاکستان کی سرحد سے ملحقہ اس صوبے میں رواں سال تشدد کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں اور گزشتہ ہفتے ہی صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث یہاں کے گورنر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔














