This is default featured slide 1 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 2 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 3 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 4 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

This is default featured slide 5 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.

Tuesday, 12 June 2018

انڈونیشیا کے مذہبی رہ نما کا دورہ اسرائیل ناقابل قبول ہے:حماس

سلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے انڈونیشیا کے ایک مذہبی رہ نما کی قیادت میں ایک وفد کے دورہ اسرائیل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے فلسطینیوں کے زخموں پر نمک پاشی قرار دیا ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈونیشی عالم دین اور سرکردہ مذہبی رہ نما یحییٰ خلیل ثقوب کا دورہ اسرائیل فلسطینی قوم کے لیے ناقابل قبول ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ انڈونیشیا اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہیں مگر آج تک انڈونیشیا کے کسی مذہبی رہ نما نے صہیونی ریاست کے ساتھ تال میل بڑھانے کی کوشش نہیں کی۔ یہ پہلا موقع ہے جب ایک سرکردہ عالم دین ایک وفد کے ساتھ صہیونی ریاست کے دورے پر ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حماس اور فلسطینی قوم انڈونیشیا کو ایک بڑا مسلمان ہونے کی بناء پر قدرکی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انڈونیشیا نے ہمیشہ فلسطینی قوم کی جدو جہد آزادی کی حمایت کی مگر انڈونیشیا کے عالم دین اور کے ایک وفد کے دورہ اسرائیل کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس گھٹیا اقدام کومسترد کرتے ہیں۔ یہ دورہ فلسطینی قوم کی توہین اور مظلوم فلسطینیوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ اس طرح کے دوروں سے نہتے فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے جرائم اور ریاستی دہشت گردی کو جواز ملتا ہے۔


صدی کی ڈیل‘ فلسطینیوں اور خلیجی ممالک میں دُشمنی کی بیج بودے

امریکی جریدہ ’نیویارکر‘ نے اپنی رپورٹ میں امریکی حکومت کی طرف سے فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان نام نہاد امن کی تجویز پر مشتمل ’صدی کی ڈیل‘ کے مضمرات پر روشنی ڈالی ہے۔ اخباری  رپورٹ کے مطابق ’صدی کی ڈیل‘ کو فلسطینی قوم نے اجتماعی طورپر مسترد کردیا ہے جب کہ بیشتر خلیجی ممالک بالخصوص امریکا نواز خلیجی ریاستیں ایران کی مخالفت میں آ کر اس اسکیم کو قبول کرچکی ہیں۔ صدی کی ڈیل مستقبل میں فلسطینی قوم اور خلیجی ممالک کے درمیان مخاصمت اور دشمنی کے بیج بونے کا موجب بنے گی۔

جریدہ ’نیویارکر‘ کے مطابق صدی کی ڈیل کی تمام تفصیلات کے بارے میں اسرائیلی قیادت کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اس حوالے سے مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک امریکا سے دوستی اور ایران سے دشمنی میں آ کر’صدی کی ڈیل‘ کو قبول کرچکی ہیں مگر امریکیوں اور اسرائیلیوں کے ہاں اس اسکیم کا مقصد خلیجی ریاستوں اور فلسطینیوں کے درمیان ہمیشہ کے لیے مخاصمت پیدا کی جائے۔ خلیجی ممالک فلسطینیوں کو ایرانی گروپ میں شامل کرتے ہوئے ان کے خلاف وہی پالیسی اپنائیں جو وہ اب تک ایران کے خلاف اپنائے ہوئے ہیں۔

جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ 2015ء میں قبرص میں ایک خفیہ اجلاس منعقد ہوا جس میں متحدہ عرب امارات کے حکومتی عہدیدار اور اسرائیلی لیڈر موجود تھے۔ اس ملاقات میں بھی امارات نے امریکا کی طرف سے فلسطین کے بارے میں نئے اسکیم کی حمایت کی تھی۔

اس سے قبل سرائیل کے عبرانی ٹی وی چینل 10 نے بھی امریکا میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور یہودی تنظیموں کے مندوبین کے درمیان ملاقات کا انکشاف کیا تھا۔ عبرانی ٹی وی کے مطابق 27 مارچ کو نیویارک میں ہونے والی اس ملاقات میں شہزادہ بن سلمان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کو امریکا کی امن اسکیم[صدی کی ڈیل] کو تسلیم کرنا ہوگا۔ فلسطینی امریکی تجویز کو قبول کریں اور مذاکرات کی میز پرآئیں یا منہ بند رکھیں۔

اس موقع پر بھی سعودی ولی عہد نے مزید کہا تھا کہ قضیہ فلسطین فی الحال ان کی ترجیحات میں شامل نہیں اور نہ ہی اس کے لیے سعودی عرب میں رائے عامہ ہموار ہے۔ فلسطین سے بھی زیادہ اہمیت کےحامل سعودی عرب کے لیے مسائل موجود ہیں جن میں ایران سر فہرست ہے۔


Friday, 18 May 2018

شام : صوبے ہمہ میں بم دھماکے،سرکاری فوج کے حمایت یافتہ 11جنگجو ہلاک

شام کے صوبے ہمہ میں بم دھماکوں کے نتیجے میں سرکاری فوج کے حمایت یافتہ دس سے زائد جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ۔ شام میں انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق دھماکے ملٹری بیس کے قریب واقع فوجی ڈپو میں ہوئے تاہم دھماکوں کی وجوحات کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئیں ۔ 

مصر کا غزہ سے منسلک سرحد کھولنے کا اعلان


مصر کا غزہ سے منسلک سرحد کھولنے کا اعلانویب ڈیسک:(18 مئی 2018) مصر نے ماہ رمضان کے دوران غزہ سے ملنے والی سرحد کو کھولنے کا اعلان کیا ہے۔مصری سربراہ مملکت عبدالفتح السیسی نے رفح سرحدی گزر گاہ کو رمضان کے مہینے کے دوران کھولے رکھنے کا حکم دیا ہے، اس اقدام کا مقصد مشکلات میں گھرے غزہ کے شہریوں کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے۔رفح اسرائیلی ناکہ بندی کے بغیر وہ واحد سرحدی گزر گاہ ہے، جس کے ذریعے غزہ کا بیرونی دنیا سے رابطہ ہے۔حالیہ برسوں کے دوران مصر کی جانب سےاس راستے کو زیادہ تر بند ہی رکھا گیا ہے۔ 

اقوام متحدہ تو ایک برائے نام ادارہ ہی رہ گیا فلسطینیوں کے لئے اصل کام تو عالمی عدالت انصاف نے کر دکھایا، اسرائیل کے خلاف ایسا اقدام کہ پوری مس

ہیگ(مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی عدالت انصاف نے فلسطین کے علاقے غزہ میں ’یوم نکبہ‘ کے موقع پر اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملوں میں نہتے شہریوں کے قتل عام کی آزادانہ تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عالمی عدالت انصاف کی پراسیکیوٹر جنرل فاتو بنسوڈا نے ایک بیان میں کہا کہ وہ غزہ میں جاری بے چینی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گےاور جرائم میں ملوث اسرائیلی عہدیداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے اہلکار غزہ میں فیلڈ کی صورت حال کا جائزہ لےرہے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ عالمی عدالت انصاف کے دائرہ اختیار میں آنے والے کسی بھی جرم کی تحقیقات کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے --> گا۔ان کا کہنا تھا کہ تشدد کاسلسلہ بند ہونا چاہیے، تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے خون خرابے سے بچنے کی پالیسی اختیار کرنا ہو گی۔ بنسوڈا کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج فلسطینی مظاہرین کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال کررہی ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔خیال رہے کہ سوموار کے روز غزہ کی مشرقی سرحد پر اپنے حق واپسی کے لیے احتجاج کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے اندھا دھند شیلنگ اور فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 61 فلسطینی شہری شہید اور تین ہزار سے زاید زخمی ہو گئے تھے۔ غزہ میں سنہ 2014ء4 کی جنگ کے بعد ایک ہی روز میں شہریوں کے قتل عام کا یہ سب سے بڑا واقعہ ہے۔ 

غزہ ’’زہریلی جھگی بستی‘‘ ہے: رعد ریاض الحسین

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے اسرائیل کی مذمت کی ہے۔رعد ریاض الحسین نے یہ بات جمعے کے روز اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس کا عنوان ’مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال‘۔ اُنھوں نے کہا کہ غزہ کے 19 لاکھ افراد ’’پیدا ہونے سے فوت ہونے تک ایک زہریلی جھگی بستی میں قید ہیں‘‘۔اس خصوصی اجلاس میں اس ہفتے غزہ سرحد کے ساتھ ہونے والے تشدد کے معاملے پر تفتیش کے لیے کمیشن تشکیل دیا جا سکتا ہے، جس میں 60 سے زائد افراد ہلاک جب کہ 2700 زخمی ہوئے۔ہلاک شدگان میں خواتین اور بچے بھی ہیں، جن میں ایک آٹھ ماہ کی بچی شامل ہے۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں اسرائیلی سفیر نے کہا ہے کہ کمیشن کی جانب سے غزہ کے تشدد کے واقعات کی چھان بین سے ’’زمینی صورت حال میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑے گا‘‘۔پیر کے روز نکالی گئی احتجاجی ریلی کشیدگی میں بدل گئی، جو یروشلم میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے حوالے سے نکالی گئی تھی۔ مظاہرین نے غزہ کو اسرائیل سے علیحدہ کرنے والی باڑ پر ہنگامہ آرائی کی، جس دوران رکاوٹ کی رسی کے حصے ٹوٹے اور پتھر پھینکے گئے‘‘۔اسرائیلی افواج نے اجتماع پر فائر کھولا۔ سرحد پر آنسو گیس کے گولے پھینکے جب کہ پرواز کرنے والے ڈرون سے کارروائی کی گئی۔ صرف پیر کے روز تقریباً 60 مظاہرین ہلاک ہوئے۔ 

او آئی سی ہنگامی اجلاس،وزیراعظم کا فلسطینیوں کے قتل عام پر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ

استنبول: فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں وزیراعظم پاکستان نے خطاب میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی آزادانہ اورشفاف تحقیقات کرائی جائے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کے سفاکانہ قتل عام کے خلاف اسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی اجلاس کے لیے مسلمان ملکوں کے سربراہان استنبول پہنچے جہاں پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے خطاب کیا۔اپنے خطاب میں وزیراعظم نے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی آزادانہ اورشفاف تحقیقات کرائی جائے۔ اس موقع پر انہوں نے مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کی منتقلی کی بھی مذمت کی۔شاہدخاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان میں جمعے کو یوم یکجہتی فلسطین کے طور پر منایا گیا۔اپنے خطاب کے دوران انہوں نے آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل مسئلہ فلسطین کےحل کیلیے اپنی قراردادوں پرعمل کرائے۔ ترک صدر،سعودی شاہ سلمان،اردن کے شاہ عبداللہ،ایرانی صدر حسن روحانی،افغان صدر اشرف غنی و دیگر کا گروپ فوٹو۔۔تصویر بشکریہ رائٹرز شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی 70 سال سے بھارتی جبر و استبداد کا شکار ہیں اور وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اختلاف بھلا کر او آئی سی پلیٹ فارم سے مضبوط موقف دینےکی ضرورت ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ فلسطین پر سلامتی کونسل کی قراردادوں سے بھی انحراف کیاجارہاہے جبکہ فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کو دہشتگردی سے جوڑا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آپس کے سیاسی اختلافات کو ختم کرنا ہوگا اور فلسطین اور کشمیر کے معاملات پر مضبوط موقف اختیار کرنا ہوگا۔وزیراعظم کا کہناتھا کہ بھارت کشمیریوں کے حق خودارادیت پرعملدرآمد نہیں کررہاہے، قابض افواج کے خلاف معاشی اور دیگر اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کیلئے عالمی عدالت انصاف کےآپشن پربھی غورکرناچاہیے، ان کے قتل عام اور ریاستی دہشتگردی کاخاتمہ ضروری ہے۔ او آئی سی سربراہ اجلاس اسرائیلی فورسز کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف مظالم پر بلایا گیا ہے جس کی صدارت ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کررہے ہیں۔شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ آزاد اور خود مختار فلسطین چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہے۔ 

افغانستان: اسٹیڈیم میں دھماکے، آٹھ ہلاک

افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں کھیلوں کے ایک اسٹیڈیم میں دھماکوں سے کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔افغان حکام کے مطابق جمعہ کو دیر گئے اس اسٹیڈیم میں ایک کرکٹ میچ ہونے جا رہا تھا جب یہ دھماکے ہوئے اور اس میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی "روئٹرز" کے مطابق صوبائی کونسل کے رکن سہراب قادری کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے راکٹ حملوں سے ہوئے جس میں آٹھ افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوئے۔ننگرہار کے صوبائی گورنر کے ترجمان عطااللہ خوگیانی کے مطابق یکے بعد دیگر ہونے والے ان دھماکوں میں آٹھ افراد مارے گئے جب کہ 43 زخمی ہوئے۔انھوں نے بتایا کہ مرنے والوں میں کرکٹ میچ کے منتظم ہدایت اللہ ظہیر اور متعدد مقامی حکام بھی شامل ہیں۔تاحال کسی فرد یا گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن اس مشرقی صوبے میں طالبان اور دہشت گرد تنظیم داعش سرگرم ہے۔پاکستان کی سرحد سے ملحقہ اس صوبے میں رواں سال تشدد کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں اور گزشتہ ہفتے ہی صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث یہاں کے گورنر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔